اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضایی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی اقتصادی جنگ کو ناکام بنایا جائے گا، جبکہ خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم کا حصہ بننے والے ممالک کو دشمن تصور کیا جائے گا۔
محسن رضایی نے ایک خصوصی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا فوجی محاذ پر ناکامی کے بعد اب اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مقصد اقتصادی دباؤ بڑھا کر ایرانی عوام کے اتحاد کو متاثر کرنا ہے، تاہم ایران اس جنگ کو بھی ناکام بنائے گا۔
انہوں نے خطے کے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف اقتصادی جنگ میں شامل نہ ہوں۔ رضایی کے مطابق پہلے سفارتی ذرائع سے متعلقہ ممالک کو ایسا نہ کرنے پر آمادہ کیا جائے گا، تاہم اگر کوئی ملک یہ سلسلہ جاری رکھتا ہے تو اسے ایران کا دشمن تصور کیا جائے گا۔
ایرانی عہدیدار نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ اس کی موجودہ صورتحال برقرار ہے اور اس کے دوبارہ کھلنے کا انحصار امریکا کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد پر ہوگا۔
رضایی نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز ممکنہ کارروائی کے لیے تیار ہیں، لیکن تہران فی الحال ایک ’’عاقلانہ اور منطقی‘‘ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اب تک امریکی اقتصادی مفادات کو نشانہ نہیں بنایا، تاہم اگر امریکا خطے میں اپنی شرارتیں جاری رکھتا ہے تو صورتحال مزید سخت ہو سکتی ہے۔
محسن رضایی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملکی ضروریات کی اشیا کی پیداوار شروع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام اور نجی شعبے کے لیے اقتصادی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے اور کاروباروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنقید اچھی چیز ہے، تاہم اسے توہین اور تخریب کاری میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ